Ammi Ki yaad mein (Urdu)

اے ماں ترا خاموش سی ہستی میرے لئے
کسی نعمت کسی دولت سے نئیں تھی کم
ترے سیے سے جو اٹھتی ممتا کی مہک
دل کے زخموں ک وہ مرحم سے نہیں تھی کم

کیا ہوا خاموش اگر تو رہتی تھی
مرے دکھوں کا تھا بوجھ ترے دل بہ
تو سمجھتی تھی مری زیست ہے کتنی مشکل
درد مرا تو سہتی تھی ابنے دل بہ

مرے ہر دکھ کو تو یوں محسوس کیاکتی تھی
دور ہو کے بھی تو دور نہیں تھی مجھ سے
بے زبانی کی زباں میری سمجھتی تھی تو یوں
جانتی تھی تو وہ جو کبھی میں نے کہا نہ تجھ سے

دوریاں تجھ اور مجھ میں بہت تھیں لیکن 
مظترب میں تھی یہاں تو تو بےچین وہاں
ٹھےس لگتی تھی ادھر ٹیس اٹھتی تھی ادھر
زخم لگتا تھا یہاں درد ہوتا تھا وہاں

میں نے سوچا تھا تو جب بھی ملئگی مجھ کو 
ہوئے جو مجھ پہ ستم یہ میں بتاونگی تجھے
ترے ممت بھرے سینے مےں چھپا کہ چہرہ
خوب رؤنگی میں اور خوب رلاؤنگی تجھے

اپنے نرم سے ہاتھوں سے تو پوچھےگی مرے اںسو
یوں بڑے پیار سے دیگی تو تسلی مجھ کو 
نہ رو بیٹی میری ابھی تو میں زندہ ہوں
اپنے ممتا بھرے اںچل میں سمو لیگی مجھ کو 

لیکن ایسا نہ ہوا تو بھی مجھے چھوڑ گئ
دھوپ عم کی ہے کڑی اور ترا سایہ بھی نہیں
ترے جانے سےزخم مرے یوں چیخ اٹھے 
ان دکھن جو کرے کم کوئ مرحم ہی نہیں

غم کی راہوں میں کو ئ اور سہارا تو نہ تھا
تجھ سے ملنے کی امید ہی کافی تھی مجھے
زیست پہلے بھی مجھ کو کوئ اسان نہ تھی
ترے جانے سے یہ مشکل اور بھی مشکل ہے مجھے

میرے اشکوں کو ہے حاجت ترے دامن کی
دل کے زخموں کو ے ممتا کے مرحم کی طلب
یوںمصیبت میں تنہا مجھے کیوں چھوڑ گئ
کچھ تو بتلا مجھے یوں موںھ پھیر کے جانے کاسبب 

درد سہہ کر مجھے ہنسنا تھاسکھایا تو نے
ہر قدم پرمیری ہممت کو بڑھایا تو نے
سر اٹھا کے مجھے جینا تھا سکھایا تو نے
بن تیرے کیسے جیوں یہ نہ بتایا تو نے

 

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s