غزل

پھول سے خوشبو جدا ہوتی ہے فقط ایک بار
یہ بکھرتی ہے تو پھر سے لوٹ کر آتی نہیں


آنکھ سے آنسو جو ٹپکا،کیا وہ دامن کرتا تر
بوند سے تو پیاس صحرا کی کبھی جاتی نہیں


ہم تو تھے وہ زندہ دل غم پہ کبھی روتے نہ تھے
اب ہوا ہے کیا کہ خوشیوں پہ ہنسی آتی نہیں


خود ہی پھولوں کو مسل کر ہے یہ مالی کو گلہ
میرے گلشن میں نہ جانے کیوں بہار آتی نہیں


خواب دیکھوں تو ہو شاید زیست کی کچھ تلخی کم
کیا کروں پر نیند مجھ کو رات بھر آتی نہیں


ہے جو قسمت میں لکھا وہ پورا تو ہوگاضرور
وقت سے پہلے تو کسی کو موت بھی آتی نہیں 



Advertisements

7 thoughts on “غزل

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s