یہ کوئی نہ جانے

جو لب پہ ہنسی ہے سب ہی دیکھتے ہیں
جو دل پہ گزرتی ہے کوئی نہ جانے

ہجوم مرے گرد دوستوں کا ہے پھر بھی
میں تنہا ہوں کتنی یہ کوئی نہ جانے

تنہائی میں اکثر ہم روتے ہیں کتنا
جب محفل میں بیٹھیں یہ کوئی نہ جانے

یہ بیچین دن اور یہ بے خواب راتیں
ہوئے کیوں مقدر یہ کوئی نہ جانے

تھپک کہ سلانا ہر نئی آرزو کو
ہے دشوار کتنا یہ کوئی نہ جانے

کبھی یہ بھی پھولوں سے زیادہ تھا نازک
ہوا دل کیوں پتھر یہ کوئی نہ جانے

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s