دھوکا

dhoka

 

آج گھرجو آئے ہواے دوست

چپ چپ سےیوں کیوں بیٹھے ہو

کچھ پوچھنا چاہتے ہو جیسے

آنکھوں میں کیوں ہے الجھن سی

کچھ ڈحونڈھ رہی ہوں جیسے!

کیا کھوجتے ہو تم یوں ہر سو؟

کیا پوچھنا چاہتے ہو جیسے

آج آئو بتائوں میں خود تم کو

کیا میں نے جمع کر رکھا ہے

یہ دل کے میرے ٹکرے ہیں

وہ کرچی کرچی خواب مرے

کچھ امیدیں ٹوٹی ٹوٹی سی

اور اشکوں کی یہ اک مالا ہے

وہ آشائوں کے ہیں دیپ بجھے

اور یادوں کے بکھرے موتی ہیں

کیوں آنکھ ہوئی پرنم تیری

چہرہ کیوں ہوا غم سے بوجھل

یہ میرا قیمتی سرمایا

جیون کی کمائی یہ میری

تم کو پسند کیا آئی نہیں؟

حیرت سے مجھے کیوں تکتے ہو!

کیا کھایا ہے دھوکا تم نے؟

تم ڈھونڈنے آئے تھے خوشیاں!

خوش کن باتیں، خوش کن لمحے

کیوں دوش تمہیں میں دوں اے دوست

دھوکا تو میرا چہرہ ہے

رہتی ہے جس پہ جھوٹی ہنسی

درد دل میں چھپا کے رکھتی ہوں

آج آئو بتائوں میں تم کو

یہ روپ کیوں میں نے دھارا ہے؟

ہےطبیعت مری خوددار بہت

ہمدردی بھیک سی لگتی ہے

جب جب دنیا دکھ دیتی ہے

جب جب میں اس پہ ہنستی ہوں

میں بانٹتی پھرتی ہوں خوشیاں

غم دل میں چھپا کے رکھتی ہوں

پردردجب حد سے بڑھ جاتا ہے

تو چپکے سے رو لیتی ہوں!

 

 

 

 

 

2 thoughts on “دھوکا

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s