Sentiments of a friend on 14th August 2014

‎کیسا جشن ِ آزادی؟ آج ہم مناتے ہیں کیسا جشن ِ آزادی اک طرف ہے ہنگامہ، اک طرف ہے بربادی سرخ ہے زمیں اپنی، خوں سے بے گناہوں کے کیسی ناروا چنُری ماں کو اپنی پہنا دی ہم سے دشمنی تھی یا باغباں کی کوتاہی جس پہ آشیانہ تھا  ، ہر وہ شاخ کٹوا دی ہات پر دھرے ہم ہات، کوستے ہیں قسمت کو بے عمل روش نے یوں مشکل اور بڑھوا دی اس قدر ہے مایوسی ایسی بے یقینی ہے گویا اپنے کاندھوں پر لاش اپنی اُٹھوا دی اب بھی وقت ہے یارو، اب بھی کچھ نہیں بگڑا پاک سرزمیں کو پھر کردیں شاد آبادی مل کے اُٹھ کھڑے ہوں ہم، اتحاد اپنا لیں نظم اور یقیں کو ہم کر لیں رہنما ہادی مل کے بار اُٹھوائیں قوم کی امانت کا روح ِ قائد ِ اعظم ہو کبھی نہ فریادی خواب ِ شاعر ِ مشرق پھر سے کردیں زندہ ہم اور پھر منائیں ہم مل کے جشن ِ آزادی ۔۔ احمد صفی 14 اگست 2014‎

کیسا جشن ِ آزادی؟

آج ہم مناتے ہیں کیسا جشن ِ آزادی
اک طرف ہے ہنگامہ، اک طرف ہے بربادی
سرخ ہے زمیں اپنی، خوں سے بے گناہوں کے
کیسی ناروا چنُری ماں کو اپنی پہنا دی
ہم سے دشمنی تھی یا باغباں کی کوتاہی
جس پہ آشیانہ تھا ، ہر وہ شاخ کٹوا دی
ہات پر دھرے ہم ہات، کوستے ہیں قسمت کو
بے عمل روش نے یوں مشکل اور بڑھوا دی
اس قدر ہے مایوسی ایسی بے یقینی ہے
گویا اپنے کاندھوں پر لاش اپنی اُٹھوا دی
اب بھی وقت ہے یارو، اب بھی کچھ نہیں بگڑا
پاک سرزمیں کو پھر کردیں شاد آبادی
مل کے اُٹھ کھڑے ہوں ہم، اتحاد اپنا لیں
نظم اور یقیں کو ہم کر لیں رہنما ہادی
مل کے بار اُٹھوائیں قوم کی امانت کا
روح ِ قائد ِ اعظم ہو کبھی نہ فریادی
خواب ِ شاعر ِ مشرق پھر سے کردیں زندہ ہم
اور پھر منائیں ہم مل کے جشن ِ آزادی

۔۔ احمد صفی
14 اگست 2014

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s