آئینہ کا سوال…a ghazal from Ankahi Baatein

aainaa

آ ئینہ دیکھتی ہوں میں تو ٹھٹک جاتی ہوں

ایک انجان سی صورت نظر آتی ہے مجھے

حیراں ہو کر میں کرتی ہوں یہ خود سے سوال

دکھی کر دیتا ہے مجھ کو میرا اپنا ہی سوال

یہ جو چہرہ ہے یہ مرا چہرہ تو نہیں

یہ جو آنکھیں ہیں یہ مری آنکھیں تو نہیں

اس نئے چہرے کا تو لگتا ہے ہر اک نقش اداس

دھواں دیتے نظر آتے ہیں نگاہوں کے چراغ

میری آنکھوں میں تو رہتا تھا تبسم رقصاں

لب پہ رہتی تھی ہنسی کھلتے گلابوں کی طرح

خامشی میں مری ہوتی تھیں ہزاروں باتیں

چہچہاتی پھرتی تھی میں کسی بلبل کی طرح

ہر طرف میں تو جلاتی تھی محبت کے چراغ

میں سمجھتی تھی زندگی خوشیوں کا ہے نام

ہر طرف پھول ہیں مجھ کو کانٹوں سے کیا کام

دکھ کتنے ہیں مقدر میں مجھے معلوم نہ تھا

زندگی کا یہ روپ بھی ہے، سوچا ہی نہ تھا

کھائے جب زخم تو زیست ہے کیا، یہ میں نے جانا

پھر بھی تھے عزم جواں، ہر مشکل کو آسان جانا

ہنس کے سہتی رہی جو زخم زندگی دیتی گئی

اپنے اشکوں کو ھنسی میں میں چھپاتی گئی

شکوہ کرنا نہ کبھی دل کو یہ سمجھاتی رہی

کبھی راہ میں ترے بھی جلینگے محبت کے چراغ

وقت بہت بیت گیا تو میں نے یہ حقیقت جانی

اس جہاں میں وفا کی کوئی قیمت ہی نہیں

تلخیاں گھلتی گئیں کچھ اس طرح دل کے اندر

اک اک کر کے بجھے سب وہ محبت کے چراغ

اب ہے آئینہ اور اک اجنبی چہرہ ہے

جس کے ہر نقش سے ابھرتا ہے اذیت کا سراغ

اور یہ چہرہ مجھ سے کرتا ہے ہردم یہ سوال

ہے کوئی جو کہ دے اس کے سوالوں کا جواب

وقت کے صحرا میں کہاں کھو گیا تیرا وہ وجود

ہر طرف جو کہ جلاتا تھا محبت کے چراغ

2 thoughts on “آئینہ کا سوال…a ghazal from Ankahi Baatein

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s