………………………………………

ابھی مجھے نہ سمجھا اے ناصح

ابھی درد بہت ہے!

مانا کے تیری باتیں

لگتی ہیں میرے دل کو

جو کچھ تو کہہ رہا ہے

لگتا ہے مجھ کو سچ وہ

لیکن ابھی مرے تو

 گھائو بہت  ہیں گہرے

 خوں  رس رہا ہے ان سے

ہے سرخ میرا دامن

جو کچھ ہے گزری دل پہ

کیسے تجھے سنائوں

جو ظلم سہے ہیں میں نے

کیسے تجھے بتائوں

لفظوں کے تیر ہر دم

کھائے ہیں میں نے دل پہ

کچھ وقت تو لگیگا

زخموں کو بھرتے بھرتے

نئی صبح کل جو ہوگی

نئے پھول بھی کھلینگے

پھر سے کرونگی ہمت

کچھ زخم جو بھرینگے

یہ درد کی جو ٹیسیں

اٹھتی ہیں آج دل میں

کل یہ نہیں رہینگی

پھر میں تری سنونگی

میرا ہے وعدہ تجھ سے

جو کچھ تو کہہ رہا ہے

ویسا ہی میں کرونگی

کرتی ہوں تجھ سے منت

تھوڑی سی دے دے مہلت

بس میری اتنی سن لے

ابھی مجھے نہ سمجھا اے ناصح

کہ ابھی درد بہت ہے