ماں

 

درد کے صحرا سے لی مٹی

اشکوں کی نہر سے لیا پانی

ہمت وعزم کے پہاڑ کی چوٹی سے

اٹھائی کچھ ان چھوئی پاکیزہ برف

ملایا اس میں پھر کچھ وفا کا رنگ

اور ایثار سے گوندھ کے اٹھایا خمیر

شاید یوں اللہ نے بنایا ہے

ماں کا وجود

خوشی سے سہتی ہے وہ ہر غم

اپنے لال کو دکھوں سے بچانے کے لئے

کرتی ہے وہ اپنی نیند قرباں

اپنے بچے کو چین کی نیند سلانے کے لئے

سائیباں بن جاتی ہے وہ

زندگی کی دھوپ میں

 اللہ کا عکس ہے پنہاں دیکھا

ماں کے ہر اک روپ میں

زندگی بھر ممتا کے دکھ سہتی ہے وہ

اور اکثر یہ بھول جاتی ہے

کہ وہ صرف اک ماں نہیں

انساں بھی ہے !

عورت بھی ہے !

لیکن کبھی یوں بھی ہوتا ہے

ممتا کے دکھوں سہتے سہتے

 تھک سی جاتی ہے وہ

اپنے منصب کو بھول کر

زندگی کے دامن سے

چرانا چاہتی ہے کچھ رنگ

اپنے بے رنگ خوابوں کو سجانے کے لئے

لیکن یہ لغزش ہوتی ہے بس

چند لمحوں کے لئے

کہ فرض کا آہنی ہاتھ

اس کو جھنجھوڑ دیتا ہے

اور یاد دلاتا ہے

کہ

یہ خواہش اسے زیب دیتی نہیں

کہ وہ انساں نہیں

عورت نہیں

پہلے اک ماں ہے

ماں!!

جس کو بنایا ہے اللہ نے

درد سے

اشکوں سے

وفا سے

اور

ایثار سے !

رنج و غم کو اسے گلے لگانا ہے

اور اولاد کے لئے مٹ جانا ہے!

یاسمین الہی

Advertisements