اے ناتواں مرے دل

اے ناتواں مرے دل
ہمت نہ ہارنا تو
دو چار اور قدم ہیں
بس سامنے ہے منزل
مانا کہ راہ کٹھن ہے
لمبا بہت سفر ہے
پر مشکلیں یہ تیری
اب ختم ہیں ہونے والی
یہ مانتی ہوں میں کہ
ماضی ترا عجب ہے
حالات کے ستم سے
کچھ دوست کے ستم سے
سب خواب ٹوٹے تیرے
بکھرا تو ریزہ ریزہ
حالت کو تیری چاہا
ہر دم بدلنا میں نے
لیکن یہ کام شاید
تھا میرے بس سے باہر
خوشیوں کی آرزو میں
پھرتا رہا تو برسوں
پر کچھ ہوا نہ حاصل
تجھ کو ان کاوشوں سے
منزل نہ پائی تو نے
لوٹ آیا راستوں سے
پر تو بڑا تھا ضدی
مانی نہ ہار تو نے
دکھ سہہ کے مسکرانا
ہر دم تھا تیرا
بس ہنسنا اور ہنسانا
ہر دم تھا کام تیرا!
پھر کیوں یہ اک تھکن سی
تجھ پہ ہے آج طاری؟r
مایوسیاں یہ کیسی؟
کیسی یہ بیقراری؟
یہ خوں جو رس رہا ہے
زخموں سے آج تیرے
کر دیگا یہی رنگیں
کل تیرے گلستاں کو
کر لے یقین میرا
دکھ کی یہ انتہا ہے
ہوتی ہے انتہا جب
پھر ہوتی ابتدا ہے!
بس تھوڑی اور ہمت
اے ناتواں مرے دل
دو چار اور قدم ہیں
بس سامنے ہے منزل