دل تو ہر بات پہ رونے کے بہانے مانگے

ہم تو ہنستے ہیں فقط چاہنے والوں ک لئے
دل تو ہر بات پہ رونے کے بہانے مانگے

تلخیٴ زیست سے گھبرا ئے تو اے دل ہم نے
میٹھی نیندوں سے تھےکچھ خواب سہانے مانگے

ہتھکڑی پیش کی مانگے جو کبھی بھی گہنے
قید رکھنے کو بھی صیاد بہانگے مانگے

لوگ بھولے ہیں تیرا قصہ تو حیراں کیوں ہے
نت نئے روز یہ دنیا تو فسانے مانگے

درد سےیوں ہوا مانوس کہ گانے کے لئے
دل مرا روز نئے غم کے ترانے مانگے

دل۔بیتاب کو ملتا نہیں محفل میں قرار
دور ویرانوں میں مجھ سے یہ ٹھکانے مانگے

گر وہ مل جائیں کہیں ڈر ہے کہ مچل جائے نہ دل
کن غموں کا یہ حساب ان سے نہ جانے مانگے

روز دیتے ہیں نئے اس کو کھلونے پھر بھی
دل وہ ضدی ہے کہ بچپن کے زمانے مانگے

Advertisements