ماں کی دعا


ماں کے دامن میں ہوتی ہے وسعت بہت 
ڈال دو میری جھولی میں جو تم کو ہیں غم
چن لوں پلکوں سے رستے میں کانٹے ہیں جو
پاس آنے نہ دوں میں تمہارے یہ غم


جی رہی ہوں میں صرف تمہارے لئے
تم پریشان ہو، یہ مجھ کو گوارہ نہیں
توڑ لائوں میں تارے گر ہو بس میں مرے
کیا کروں میرے بچوں یہ ممکن نہیں


میری جان یہ اس دنیا کا دستور ہے
جو بھی ڈرتا ہے اور اس کو ڈراتی ے یہ
ہنس کے ہر دکھ کا سامنا تم کرو
کہ جو بھی روتا ہے اور اس کو رلاتی ہے یہ


میں نے مانا کہ وقت یہ ہے مشکل بہت
رکھو ہمت جواں، آگے بڑھتے رہو
مشکلیں ساری آساں ہو جائینگی
تم دعائیں مری ساتھ لے کے چلو


نائو آج بیچ طوفاں گھر گئی ہے تو کیا
ناخدا ہے خدا میرا رکھو یقین
اک دن ساحل پہ پہچیگی کشتی ضرور
اپنی ماں کی دعائوں پہ رکھو یقین


دور یہ سخت جو ہے، یہ گزر جائیگا
چومیگی اک دن منزل تمہارے قدم
کہ ہے دعا ماں کی جس کے بھی ہم قدم
اس کا حامی ہے اللہ، خود اس کی قسم

Advertisements